صفحات

Sunday, 9 April 2023

پردہ اٹھ جائے اگر عشق کی زیبائی کا

 عارفانہ کلام، حمد، نعت، منقبت


پردہ اٹھ جائے اگر عشق کی زیبائی کا

حُسن پھر نام نہ لے انجمن آرائی کا

طور پر برقِ تجلی کی کرم فرمائی

ایک غمزه تھا تِری شانِ خود آرائی کا

پتہ پتہ سے نمودار ہے شانِ وحدت

ذره ذره کو یقیں ہے تِری یکتائی کا

عشق مٹتی ہوئی تصویر تِری فطرت کی

حُسن دھویا ہوا خاکہ تِری رعنائی کا

سر ہو اور سنگِ درِ ختمِ رسلﷺ ہو ماہر

پھر تو ارمان نکل جائے جبیں سائی کا


ماہر القادری

No comments:

Post a Comment