ماہتاب
جو سارے چہرے گلاب ہوتے
جو سارے دل ماہتاب ہوتے
دھنک سا ہوتا یہ اپنا آنگن
مہک سی ہوتی یوں چار سُو بس
کہ جیسے مہکا ہوا ہو گلشن
مگر یہ ساری تو خواہشیں ہیں
ہمارے دل کی یہ حسرتیں ہیں
کہ سارے رستے وہاں کو جاتے
جہاں ہمیشہ بہار ہوتی
ہوا ہمیشہ لہک کے چلتی
سکون ہوتا ہر اک لمحے میں
کبھی نہ گمتا کوئی مسافر
ہمیشہ پاتے سب اپنی منزل
محبتوں کے شہر جو ہوتے
نہ پھر کہیں پر فساد ہوتے
جو سارے چہرے گلاب ہوتے
جو سارے دل ماہتاب ہوتے
کبھی نہ ڈھلتا خوشی کا سورج
کبھی نہ بکھرے یہ خواب ہوتے
جو سارے چہرے گلاب ہوتے
جو سارے دل ماہتاب ہوتے
تسنیم مرزا
No comments:
Post a Comment