صفحات

Saturday, 8 April 2023

میان درد میں سکھ تولنے کی عادی ہوں

میانِ درد، میں سُکھ تولنے کی عادی ہوں

چُھپا ہوا ہو جو غم کھوجنے کی عادی ہوں

میں رنج و غم سے ذرا دور، دُور رہتی ہوں

میں سوچنے کی نہیں بولنے کی عادی ہوں

میں اپنے دل میں کوئی بھی گرہ نہیں رکھتی

میں سارے درد کے در کھولنے کی عادی ہوں

میں اک سکون کی وادی میں نیند لیتی ہوں

میں غم کی بانہوں میں کب ڈولنے کی عادی ہوں

شکاری میری بلا سے قفس کا در کھولے

میں دل پرندے کے پر نوچنے کی عادی ہوں

میں دو ہی دانوں کی مالا گلے میں رکھتی ہوں

میں دو ہی دانے سدا رولنے کی عادی ہوں

میں زہر یاب ہوں عشقِ ہمہ کے پیالے سے

میں اپنی سانس میں سم گھولنے کی عادی ہوں

مجھے سکھایا گیا کلمۂ الہ کہنا

میں ظلم و جور کی رہ روکنے کی عادی ہوں


شائستہ کنول عالی

No comments:

Post a Comment