عارفانہ کلام، حمد، نعت، منقبت
معراج النبیؐ پہ مبنی کلام
کیا کہوں کون ہوا جلوہ نما آج کی رات
آ گیا پردے سے باہر خدا آج کی رات
کس حسین کے حسین یہ جلوے ہیں اللہ اللہ
عشق نے کر دیا ایک حشر بپا آج کی رات
کون دیکھے ہے، بھلا تاب کسے دیکھنے کی
نقشہ کچھ ایسا نگاہوں میں کھنچا آج کی رات
آج کی رات ہے وہ رات کی سبحان اللہ
چلتا پھرتا نظر آتا ہے خدا آج کی رات
رحمتیں دھونڈتی پھرتی ہیں گنہ گاروں کا
کوئی آئے نہ نظر اہلِ خطا آج کی رات
نور کی راہیں ہیں فرش سے لے تا سدرا
عشق گھر حسن کے مہمان ہوا آج کی رات
مانگنے والو چلے آؤ جو چاہو لے لو
کُھل گیا بابِ کرم، بابِ عطا آج کی رات
دو جہاں نور میں ڈوبے ہوئے آتے ہیں نظر
یہ کس حسن کی پھیلی ہے ضیا آج کی رات
دعوتِ عشق ہے آج عرشِ معلیٰ پہ امیر
نور سے فرش سجا، عرش سجا آج کی رات
امیر بخش صابری
No comments:
Post a Comment