دل کی دیوار میں تصویر لگی ہے کس کی
بول اٹھے نہ مصور یہ کبھی، ہے کس کی
وہ مِرے خواب کا یوں خوابِ تمنا ہونا
گردش چرخ کے آگے بھی چلی ہے کس کی
کیا خبر دل کے محلے کی تجھے بادِ نسیم
کون سے رنگ میں یاں رات کٹی ہے کس کی
اس کی یادیں لیے جاتا تھا کہ آواز آئی
یاد چلتے ہوئے رستے میں گری ہے کس کی
اب تو رویا نہیں جاتا کسی دُکھ پر، دُکھ ہے
خشک آنکھوں میں رہی یار نمی ہے کس کی
کیوں نہ بیٹھے کوئی ہاتھوں میں لیے سنگ یہاں
یوں بھی دیوانوں سے دل جگ میں بنی ہے کس کی
مضطرب اور ہُوا مجھ کو وہ ٹھکرا کے سحر
گر نہیں اب بھی اسے میری کمی، ہے کس کی
شجاعت سحر جمالی
No comments:
Post a Comment