صفحات

Tuesday, 11 April 2023

تمہارے لیے آخری نظم پھر سے ادھوری رہے گی

 تمہارے لیے یہ مری آخری نظم ہے


تم نے سچ کر دئیے

واقعی! تم نے سچ کر دئیے

وہ سبھی خواب

میں جن کی وحشت سے راتوں کو سوتی نہ تھی

میرے ہم عصر! سرسبز کھیتوں، پہاڑوں 

بلند آبشاروں کے خوشیوں بھرے گیت گاتے رہے

فلسفے، وقت، دھرتی، کھلے آسمانوں، ستاروں 

خلاؤں، زمانوں کے حالات پر نظمیں لکھتے رہے

اور یہاں میں

اسی ایک منظر کی خود ساختہ سی اذیت میں گھلتی رہی 

جس میں تم اک پری کا بدن چھو رہے تھے

مجھے ایک سادہ سے سچ کو پرکھنے میں صدیاں لگیں

خوش گمانی کی پھیلی ہوئی سرحدوں سے نکلنے میں صدیاں لگیں

وقت کی بیکراں وسعتوں میں 

کسی رائیگاں خواب کی ناؤ کھیتے ہوئے نظم لکھنا بڑا ہی کٹھن ہے

مِرے ہاتھ شل ہو گئے ہیں

تمہارے لیے آخری نظم پھر سے ادھوری رہے گی


فریحہ نقوی

No comments:

Post a Comment