عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
فریاد رس ہوں نعتیہ اشعار کے لیے
سیرت پڑھوں میں آپؐ کے افکار کے لیے
دل مضطرب ہے روزِ ازل سے مِرا حضورؐ
جنت مثال کوچہ و بازار کے لیے
قلب و نظر کا نور ہے طیبہ کی خاکِ پاک
ذرے ہیں اس کے دیدۂ بیدار کے لیے
دل میرا صدقِ عشقِ محمدﷺ کا ہے گواہ
میری زباں ہے آپؐ کے اقرار کے لیے
سب کچھ ہے انؐ کے واسطے پیدا کیا گیا
سب کچھ ہے دو جہان کے سردار کے لیے
عِشقِ رسولِ پاکﷺ کا بازار سج گیا
کیا کچھ یہاں نہیں ہے خرِیدار کے لیے
زاہد نبیؐ کی نعت نگاری کے واسِطے
قرآن پاک دیکھ لو معیار کے لیے
سرفراز زاہد
No comments:
Post a Comment