صفحات

Wednesday, 3 May 2023

خوشی میں یوں اضافہ کر لیا ہے

 خوشی میں یوں اضافہ کر لیا ہے

بہت سا غم اکٹھا کر لیا ہے

ہمیں ہم سے بچانے کون آتا

سو اب خود سے کنارہ کر لیا ہے

مِری تنہائی کا عالم تو دیکھو

زمانے بھر کو یکجا کر لیا ہے

تجھے جانے کی جلدی تھی سو خود سے

تِرے حصے کا شکوہ کر لیا ہے

نہیں مانگیں گے تجھ کو اب دعا میں

خدا سے ہم نے جھگڑا کر لیا ہے

ترستے ہیں جسے ملنے کی خاطر

اسی کو اپنی دنیا کر لیا ہے

وہ کیا ہے عشق ہم نے اب کی جاناں

تکلف میں زیادہ کر لیا ہے

اندھیروں میں تو رکھتے ہی تھے خود کو

اجالوں میں بھی تنہا کر لیا ہے

کھلے پنجرے میں بھی جس کو ہے وحشت

یہ دل ایسا پرندہ کر لیا ہے


عائشہ ایوب

No comments:

Post a Comment