صفحات

Thursday, 11 May 2023

کیوں خفا ہم سے ہو خطا کیا ہے

 کیوں خفا ہم سے ہو خطا کیا ہے

یہ تو فرمائیے ہوا کیا ہے

حسن کیا حسن کی ادا کیا ہے

اس کے جلووں کا دیکھنا کیا ہے

ایک عالم ہے صرف مے نوشی

نگہ مست! ماجرا کیا ہے؟

نیچی نظروں سے کر دیا گھائل

اب یہ سمجھے کہ یہ حیا کیا ہے

جان دینا ہے عین مقصد عشق

ان کو اندازۂ وفا کیا ہے

ہم سے برہم رقیب سے شاداں

کہیۓ کہیۓ یہ ماجرا کیا ہے

جن کی ہستی ہے اک شرر کی مثال

ایسے تاروں کا ڈوبنا کیا ہے

عارض یار کے مقابل ہو

مہر تاباں کا حوصلا کیا ہے

خون عاشق ہے یا حنا کا رنگ

میرے قاتل یہ زیر پا کیا ہے

خود ہی گم ہو کے رہ گئے انور

حاصل جستجو ہوا کیا ہے


انور سہارنپوری

No comments:

Post a Comment