صفحات

Friday, 5 May 2023

کاش پھر شاخ تمنا پہ ثمر آ جائے

 کاش پھر شاخِ تمنا پہ ثمر آ جائے

ختم ہو تِیرہ شبی اور سحر آ جائے

اک نیا عزم ملے گردِ مسافت سے مجھے

مجھ کو بھی پیش کوئی ایسا سفر آ جائے

آبلے پاؤں کے فریاد بہ لب ہیں کب سے

اب تو خوشبو کا جہاں، پیار نگر آ جائے

یہ الگ بات کہ انسان بڑی چیز بھی ہے

اور جب شر پہ کبھی یہ ہی بشر آ جائے

خود کو پانے کی تڑپ دل میں لیے پھرتا ہوں

کوئی امکاں، کوئی تدبیر نظر آ جائے

کون اس شخص کو بھٹکا ہوا کہتا ہے بھلا

صبح کا بُھولا اگر شام کو گھر آ جائے

یوں تو جینے کو سبھی لوگ جیا کرتے ہیں

زیست اس کی ہے جسے اس کا ہنر آ جائے


عادل صدیقی

شبیر صدیقی

No comments:

Post a Comment