صفحات

Sunday, 14 May 2023

ماں ہو تم اور ماں کا ہونا ایسا ہوتا ہے

 ماؤں کے عالمی دن پر

ماں ہو تم اور ماں کا ہونا ایسا ہوتا ہے


گھٹنوں کی پیڑا میں جاگ کے سونے والی ماں

انسلن کی گولی سے خوش ہونے والی ماں

سلوٹی ہاتھوں سے کپڑوں کو دھونے والی ماں

پاپا کی اک ڈانٹ سے گھٹ کر رونے والی ماں

بچوں سے چھپ چھپ کر رونا کیسا ہوتا ہے

ماں ہو تم اور ماں کا ہونا ایسا ہوتا ہے


پاپا کی انٹلیجنسی تم پر بھاری ہے

لیکن تم نے پریم کی گنگا گھر میں اتاری ہے

باندھنا گھر کو ایک دھاگے میں کتنا بھاری ہے

اس میں تمہاری صرف تمہاری ہی ہوشیاری ہے

تم کو ہے معلوم پرونا کیسا ہوتا ہے

ماں ہو تم اور ماں کا ہونا ایسا ہوتا ہے


دقیانوسی کہہ کر بٹیا تم پر ہنستی ہے

تم کو نہیں معلوم کی پھبتی تم پر کستی ہے

سیدھی عورت کی بھی اپادھی تم کو ڈستی ہے

اور تمہاری اس گھر میں ہی دنیا بستی ہے

چھت دیواریں کونا کونا کیسا ہوتا ہے

ماں ہو تم اور ماں کا ہونا ایسا ہوتا ہے


چھوٹی سی تنخواہ میں کیسے کرنے ہیں سب کام

کبھی نہیں ملتا ہے تم کو محنت کا انعام

اور نہیں ہوتا ہے جگ میں کبھی تمہارا نام

دھرتی ماں کے جیسے تم بھی کرتی نہیں آرام

تم کو کیا معلوم کہ سونا کیسا ہوتا ہے

ماں ہو تم اور ماں کا ہونا ایسا ہوتا ہے


ضیا ضمیر

No comments:

Post a Comment