صفحات

Monday, 15 May 2023

مجھ پہ بھی چشمِِ کرم اے مِِرے آقا کرنا

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے مِرے آقاﷺ کرنا

حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضہ کرنا

میں کہ ذرہ ہوں مجھے وسعتِ صحرا دے دے

کہ تِرے بس میں ہے قطرے کو بھی دریا کرنا

میں ہوں بے کس، تیرا شیوہ ہے سہارا دینا

میں ہوں بیمار، تیرا کام ہے اچھا کرنا

تُو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے

کہ تِری شان کے شایاں نہیں ایسا کرنا

تیرے صدقے، وہ اسی رنگ میں خود ہی ڈوبا

جس نے، جس رنگ میں چاہا مجھے رُسوا کرنا

یہ تِرا کام ہے اے آمنہؑ کے دُرِ یتیم

ساری اُمت کی شفاعت، تنِ تنہا کرنا

کثرتِ شوق سے اوسان مدینے میں ہیں گُم

نہیں کُھلتا کہ مجھے چاہیے کیا کیا کرنا

یہ تمنائے محبت ہے کہ اے داورِ حشر

فیصلہ میرا سپردِ شہِ بطحاﷺ کرنا

آلؑ و اصحابؓ کی سُنت، مِرا معیارِ وفا

تِری چاہت کے عِوض، جان کا سودا کرنا

شاملِ مقصدِ تخلیق یہ پہلو بھی رہا

بزمِ عالم کو سجا کر تیرا چرچا کرنا

یہ صراحت ورفعنالک ذکرک میں ہے

تیری تعریف کرانا، تجھے اُونچا کرنا

تیرے آگے وہ ہر اک منظرِ فطرت کا ادب

چاند سورج کا وہ پہروں تجھے دیکھا کرنا

طبعِ اقدس کے مطابق وہ ہواؤں کا خِرام

دھوپ میں دوڑ کے وہ ابر کا سایہ کرنا

دشمن آ جائے تو اٹھ کر وہ بچھانا چادر

حُسنِ اخلاق سے غیروں کو وہ اپنا کرنا

کوئی فاروقؓ سے پوچھے کہ کسے آتا ہے

دل کی دنیا کو نظر سے تہہ و بالا کرنا

ان صحابہؓ کی خوش اطو ار نگاہوں کو سلام

جن کا مسلک تھا، طوافِ رخِ زیبا کرنا​

کنکروں کا تیرے اعجاز سے وہ بول اٹھنا

وہ درختوں کا تیری دید پہ جھوما کرنا​

وہ تیرا درس کہ جھکنا تو خدا کے آگے

وہ تیرا حکم کہ خالق کو ہی سجدہ کرنا​

چاند کی طرح تیرے گرد وہ تاروں کا ہجوم

وہ تیرا حلقۂ اصحابؓ میں بیٹھا کرنا​

قاب قوسین کی منزل پہ یکایک وہ طلب

شبِ اسرا وہ بلانا، تجھے دیکھا کرنا​

مجھ پہ محشر میں نصیر ان کی نظر پڑ ہی گئی

کہنے والے اسے کہتے ہیں خدا کا کرنا


سید نصیرالدین نصیر 

No comments:

Post a Comment