صفحات

Sunday, 14 May 2023

صرف تقصیر کی ہوتی تو میں جانے دیتا

 صرف تقصیر کی ہوتی تو میں جانے دیتا

بات توقیر کی ہوتی تو میں جانے دیتا

میں محبت کی عمارت کا تو معمار نہیں

میری تعمیر کی ہوتی تو میں جانے دیتا

یار یہ بات ہے گاؤں کےسبھی پیڑوں کی

ایک شہتیر کی ہوتی تو میں جانے دیتا

سیدھا آیات کا انکار کرے ہے کافر

بات تفسیر کی ہوتی تو میں جانے دیتا

بات دلگیر کی تھی دل میں چھپا لی میں نے

کسی رہگیر کی ہوتی تو میں جانے دیتا


حسین فرید

No comments:

Post a Comment