صفحات

Thursday, 6 July 2023

اے آرزوئے شوق تجھے کچھ خبر ہے آج

 اے آرزوئے شوق تجھے کچھ خبر ہے آج

حسنِ نظر نواز، حریفِ نظر ہے آج

ہر رازداں ہے حیرتیٔ جلوہ ہائے راز

جو با خبر ہے آج وہی بے خبر ہے آج

کیا دیکھیے کہ دیکھ ہی سکتے نہیں اسے

اپنی نگاہِ شوق حجابِ نظر ہے آج

دل بھی نہیں ہے محرمِ اسرارِ عشق دوست

یہ رازداں بھی حلقۂ بیرونِ در ہے آج

کل تک تھی دل میں حسرتِ آزادیٔ قفس

آزاد آج ہیں تو غم بال و پر ہے آج


تاجور نجیب آبادی

احسان اللہ خان درانی 

No comments:

Post a Comment