صفحات

Tuesday, 4 July 2023

نہ شاعروں سے نہ مجھ کو یہ فکر و فن سے ملا

 نہ شاعروں سے، نہ مجھ کو یہ فکر و فن سے ملا

مجھے غزل کا تصور، ترے بدن سے ملا

نظر میں لا نہ سکے دلکشی ماہ و نجوم

یہ حوصلہ تو ہمیں تیرے بانکپن سے ملا

میں ڈھونڈتا رہا خود کو گلی گلی، لیکن

مجھے تو اپنا پتہ تیری انجمن سے ملا

جنہیں سمجھتے تھے ہم پھول، وہ بھی کانٹے تھے

سراغ اس کا ہر اک گوشۂ چمن سے ملا

تمہاری گُل بدنی کا نہ بھید کُھل پاتا

یہ راز نرگس و نسرین و نسترن سے ملا

اُٹھا کے گورِ غریباں کی چُوم لی مٹی

کہ جیسے مجھ کو یہ تحفہ مِرے وطن سے ملا

مجھے بنا دیا دیوانہ اک ولی نے عمر

کہ یہ جنون غزل تو مجھے دکن سے ملا


عمر قریشی

No comments:

Post a Comment