صفحات

Saturday, 22 July 2023

بات ساری یہ سعادت کی ہے

  عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


بات ساری یہ سعادت کی ہے

میں نے اُس گھر سے محبت کی ہے​

میں کہاں اور کہاں مدحِ حسینؑ؟

یوں سمجھ لو کہ جسارت کی ہے​

گھر کا گھر اور شہادت کی نماز

اِس طرح کس نے امامت کی ہے

​اک قیامت ہے قیامت کے لیے

کب نظیر ایسی شہادت کی ہے​

اس نے سجدے میں کٹا دی گردن

اُس نے دراصل عبادت کی ہے​

کیسے گھر بار لٹایا اپنا

کیا عجب اُس نے سخاوت کی ہے​

سعد! حق بات کہی ہے، یعنی

میں نے نسبت کی حفاظت کی ہے​

سعد اللہ شاہ

No comments:

Post a Comment