صفحات

Monday, 3 July 2023

ابرو کا وار اور دل بے قرار پر

 ابرو کا وار اور دل بے قرار پر 

کیوں رکھ لیا غریب کو خنجر کی دھار پر 

اس برق وش نے ہنس کے مِرے حال زار پر 

بجلی گرائی خِرمنِ صبر و قرار پر 

سنیے تو کچھ نہیں یے برا ماننے کی بات 

دل دے تو کوئی آپ کو کس اعتبار پر 

لی ہو گی جیتے جی مِری کچھ آپ نے خبر 

کچھ بعد مرگ آئیں گے میرے مزار پر 

کنج قفس سے ہائے رہائی نہ ہو سکی 

ہر چند عندلیب نے مارے ہزار پر 


برق دہلوی

منشی مہاراج بہادر ورما

No comments:

Post a Comment