عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پھر تصور نے مجھ پہ یہ احساں کیا
پھر وہ جالی، وہ مینار یاد آ گئے
دیکھنا سبز گنبد کو بھر کے نظر
سارے منظر وہ یکبار یاد آ گئے
پھر حضوری کو یہ دل مچلنے لگا
طواف کعبہ کے انوار یاد آ گئے
قافلے جب مدینے کو جانے لگے
مجھ کو شدت سے سرکارؐ یاد آ گئے
جب چلا ذکر بخشش کا معراج میں
مصطفٰیﷺ کو گنہ گار یاد آ گئے
مجھ کو نازش غریبی میں لطف آ گیا
جب غریبوں کو غمخوار یاد آ گئے
حنیف نازش قادری
No comments:
Post a Comment