صفحات

Wednesday, 5 July 2023

یہ میرے ہاتھ کی گرمی جسے چھو کر

 یہ میرے ہاتھ کی گرمی 


یہ میرے ہاتھ کی گرمی

جسے چُھو کر

تمہاری آنکھ میں حیرت کے ڈورے ہیں

کہ اس سے قبل جب بھی تم نے میرا ہاتھ تھاما

برف کا موسم ہی پایا 

یہ موسم میرے اندر کتنے برسوں سے فروکش تھا

بہار آئی تھی

اور میرے دریچوں پر کبھی دستک نہ دیتی تھی

گلابی بارشیں

میرے لیے ممنوع تھیں

اور صبح کی تازہ ہوا کا ذائقہ

میں بُھول بیٹھی تھی

مِرے ملبوس سے سب گرم رنگوں کو شکایت تھی

مگر جاناں

تمہارے ساتھ نے تو رُوح کا موسم بدل ڈالا

یہاں اب رنگ کا تہوار ہے

خوشبو کا میلہ ہے

مِرا ملبوس اب گہرا گلابی ہے

مِرے خوابوں کا چہرہ ماہتابی ہے

مِرے ہاتھوں کی حدت آفتابی ہے

جسے چُھو کر ۔۔۔


پروین شاکر

No comments:

Post a Comment