وفورِ شوق کا عالم بھی ہے عجب عالم
نہ دیکھنے کی طرح ان کو دیکھتے ہیں ہم
وہ بے رُخی میں بھی صد التفات کا عالم
زہے جنوں کہ سلامت رہا جنوں کا بھرم
تڑپ رہا ہوں، تڑپنے کا ہوش باقی ہے
یہ کم نہیں ہے تِری کم نگاہیوں کی قسم
کس آسرے پہ کروں بے توجہی کا گِلہ
نگاہِ ناز اٹھی،۔ اور ڈگمگائے قدم
تمہیں جو دیکھ سکا ہو کوئی، قسم لے لو
وداعِ ہوش سے پہلے سرِ نیاز تھا خم
بہار یہ کہیں آغازِ بے حسی تو نہیں
کہ آج بھی خلشِ انتظار ہے کچھ کم
بہار کوٹی
No comments:
Post a Comment