صفحات

Monday, 3 July 2023

بسمل کسی کو رکھنا رسم وفا نہیں ہے

 بسمل کسی کو رکھنا رسم وفا نہیں ہے

اور منہ چھپا کے چلنا شرط وفا نہیں ہے

زلفوں کو شانہ کیجے یا بھوں بنا کے چلیے

گر پاس دل نہ رکھیے تو یہ ادا نہیں ہے

اک روز وہ ستم گر مجھ سے ہوا مخاطب

میں نے کہا کہ پیارے اب یہ روا نہیں ہے

مرتے ہیں ہم تڑپتے پھرتے ہو تم ہر اک جا

جانا کہ تم کو ہم سے کچھ مدعا نہیں ہے

تب سن کے شوخ دلکش جھنجھلا کے کہنے لاگا

کیا وضع میری آصف! تو جانتا نہیں ہے


آصف الدولہ

No comments:

Post a Comment