صفحات

Sunday, 1 October 2023

رمز الفت جو گرفتار سمجھ لیتے ہیں

 رمزِ اُلفت جو گرفتار سمجھ لیتے ہیں

اپنے سائے کو بھی دیوار سمجھ لیتے ہیں

دیکھ جا چشمِ تبسم سے کہ بیمار تِرے

تیری مُسکان کو غمخوار سمجھ لیتے ہیں

خود میں ساحر ہے مِری سادہ دلی کہ مجھ کو

جتنے ہُشیار ہیں، فنکار سمجھ لیتے ہیں

کون سی آنکھ کی کس نظر کے کیا معنی ہیں

ہم سمجھ لیتے ہیں، سرکار! سمجھ لیتے ہیں

ہم وہ درویش طبیعت سے ہیں عاشق، تجھ کو

دیکھ لینے کو ہی دیدار سمجھ لیتے ہیں

ہم محبت کے تو بچپن سے ہیں بُھوکے سانول

جس نے بھی یار کہا یار، سمجھ لیتے ہیں


سانول حیدری

No comments:

Post a Comment