صفحات

Tuesday, 10 October 2023

تری دوستی کا کمال تھا مجھے خوف تھا نہ ملال تھا

 تری دوستی کا کمال تھا مجھے خوف تھا نہ ملال تھا 

مَرا رَوم رَوم تھا حیرتی، مِرا دل بھی محوِ دھمال تھا 

کوئی شاخِ گِریہ لِپٹ گئی مِرے سُوکھتے ہوئے جسم سے 

میں خزاں کی رُت میں ہرا ہوا یہ درود ہی میں کمال تھا 

ابھی ریگِ دشت پہ ثبت ہیں سبھی نقش میرے سجود کے 

وہ جو معرکے کا سبب ہوا وہی حرف حق مِری ڈھال تھا 

مِری راکھ میں تھیں کہیں کہیں میرے ایک خواب کی کِرچیاں 

میرے جسم و جاں میں چھپا ہوا تِری قُربتوں کا خیال تھا 

انہی حیرتوں میں بسر ہوئی، نہ خبر ہوئی کہ سحر ہوئی 

یہ تمام عرصۂ زندگی کہ محیط شامِ وِصال تھا


عاطف وحید یاسر

No comments:

Post a Comment