صفحات

Wednesday, 11 October 2023

بھیک میں مانگے سہاروں کو سزا ملتی ہے

 بھیک میں مانگے سہاروں کو سزا ملتی ہے

لہر بپھرے تو کناروں کو سزا ملتی ہے

ایک کم ظرف بھی گھس جائے اگر اِس صف میں

ایک ان دیکھی سی یاروں کو سزا ملتی ہے

آپ کو شوق چرایا ہے تو لے چلتا ہوں

جس جگہ عشق کے ماروں کو سزا ملتی ہے

سائے جب شام کے آتے ہی نکل جاتے ہیں

گھر تو کیا اس کی دواروں کو سزا ملتی ہے

بے رخی کی جو عدالت میں نہ شنوائی ہو

کتنے مخمور اشاروں کو سزا ملتی ہے

جب بھی مسکان سے بلکوری بنے گالوں پر

لب پہ خواہش کی قطاروں کو سزا ملتی ہے

ان کے کاکل جو کریں سایہ کبھی عارض پر

کتنے نورانی نظاروں کو سزا ملتی ہے

زخم دل جب بھی ہرا ہو تو چمن میں دیکھا

سارے سرسبز نظاروں کو سزا ملتی ہے

جب بھی اقلیم خزاں دیکھی چمن زاروں پر

پوچھ مت کتنی بہاروں کو سزا ملتی ہے

جرم جب ضبط کی حد توڑنے کا اشک کریں

پھر جو آنکھوں کے ستاروں کو سزا ملتی ہے

عدل مٹ جاتا ہے یکسر جو کسی بستی میں

پھر یوں ہوتا ہے کہ ساروں کو سزا ملتی ہے

جرم افراد کا ہوتا ہے اگرچہ مفتی

جانے کیوں پھر بھی اداروں کو سزا ملتی ہے


ایاز مفتی

No comments:

Post a Comment