صفحات

Monday, 9 October 2023

رہزنوں کے ہاتھ سارا انتظام آیا تو کیا

 رہزنوں کے ہاتھ سارا انتظام آیا تو کیا

پھر وفا کے مجرموں میں میرا نام آیا تو کیا

میرے قاتل! تجھ کو آخر کون سمجھائے یہ بات

پر شکستہ ہو کے کوئی زیرِ دام آیا تو کیا

پھر وہ بُلوایا گیا ہے کربلائے عصر میں

کُوفیوں کو پھر سے شوقِ اہتمام آیا تو کیا

کھو چکی ساری بصیرت سو چکے اہلِ کتاب

آسمانوں سے کوئی تازہ پیام آیا تو کیا

جب کہ ان آنکھوں کی مشعل بام پر روشن نہیں

شہر میں یاسر! کوئی ماہِ تمام آیا تو کیا


عاطف وحید یاسر

No comments:

Post a Comment