صفحات

Friday, 6 October 2023

اک نیا ہے باب یہ تاریخ کے ابواب میں

 اک نیا ہے باب یہ تاریخ کے ابواب میں

بچ گئے ہم دشمنوں سے لُٹ گئے احباب میں

ہونے دو دشمن کو شامل حلقۂ احباب میں

ایک قطرے کی حقیقت کیا ہے اک تالاب میں

آنکھ ہے نکھری ہوئی سی آنسوؤں میں ڈوب کر

اس سفینے کا مقدر جاگ اُٹھا سیلاب میں

عکس رُخ ہے جام میں بھی جام کے اطراف بھی

منظر ایسا ہے کہ جیسے جام ہو مہتاب میں

بات تو جب ہے کہ آنکھوں میں اک آنسو بھی نہ ہو

ضبطِ غم پہلا ادب ہے عشق کے آداب میں

روزِ اول سے لُٹاتا آ رہا ہے روشنی

پھر بھی فرق آیا نہ کچھ سورج کی آب و تاب میں

اس طرح ہم نے شبِ وعدہ گزاری اے عدیل

شمع اس محراب سے رکھ دی ہے اس محراب میں


نظیر علی عدیل

No comments:

Post a Comment