صفحات

Monday, 9 October 2023

بڑھاپے کی بے سمت گہرائیوں کی کٹھن لرزشوں میں

 میرے بابا جانی


بڑھاپے کی بے سمت گہرائیوں کی کٹھن لرزشوں میں 

اترتا ہوا اک سخن باش آنکھوں کا مالک

ستاروں سی رعنائیوں سے بھری مسکراہٹ کا حامل

خلوص و محبت میں کامل

پریشان دکھنے لگا ہے تو جیسے یہ دنیا بدل سی گئی ہے

کئی خواب اپنے لہو، تیز رو، لفظ گر، حرب جو میں سجائے ہوئے

آ گیا پانچ عشروں کا بار اپنے سر پر اٹھائے ہوئے

اس لہو کے بھی کیسے عجب کھیل ہیں

کیسی بے پیش بینی رفاقت سے ہر آن 

اپنے قراروں کو موجود کرنے کی خاطر 

کہانی کا کردار رہتا نہیں ہے

کوئی بات دل کی بھی کہتا نہیں ہے

مگر اک جہت ایسی ایجاد کرنے میں مشغول ہے

جس جہت میں ستاروں سی رعنائیوں سے بھری 

مسکراہٹ کا گہرا لہو، تیز رو، حرب جو

اپنے ہونے کی ترتیب کے آسماں زاد لفظوں میں 

ملفوظ کرنے کو ہے

دستکیں دے رہی ہے ہتھیلی پہ اس کی کہانی

مِرے بابا جانی


رفاقت راضی

No comments:

Post a Comment