میں نے ساحل سے پرے ریگِ رواں تک دیکھا
ایک طوفانِ مسلسل تھا، جہاں تک دیکھا
اہلِ بینش کی یہ کوتہ نظری، کم بصری
تجھ کو دیکھا تو مَہ و کاہکشاں تک دیکھا
کون کہتا ہے کہ ہے دورِ بہاراں محدود؟
ہم نے اس دور کو پھیلا کے خزاں تک دیکھا
یہ جو دیکھیں تو ستاروں سے چھلک جائے سحر
ہم نے ان دیکھنے والوں کو یہاں تک دیکھا
عاصی کرنالی
کوتہ: کوتاہ
No comments:
Post a Comment