صفحات

Friday, 6 October 2023

ہمدردی نگل لیتی ہے بدخوئی ہماری

 ہمدردی نگل لیتی ہے بد خوئی ہماری

اب کون کرے ہجر میں دلجوئی ہماری

تھی کار محبت کو توجہ کی ضرورت

اور رزق کی جانب رہی یکسوئی ہماری

ہر شخص نے آزار سے آزاد ہی سمجھا

چہرے پہ ہنسی دیکھ کے مصنوعی ہماری

اک شہر تِرا حسن پرستی میں ہے مشہور

اک ہم کہ لیے پھرتے ہیں کم روئی ہماری

چپ چاپ کہانی سے نکل جانے لگے ہیں

ناکامی سمجھنا اسے مجموعی ہماری

اب کیسے کہیں وقت بدلتا ہی نہیں ہے

جب ایک جگہ اٹکی رہی سوئی ہماری


کومل جوئیہ

No comments:

Post a Comment