ہمدردی نگل لیتی ہے بد خوئی ہماری
اب کون کرے ہجر میں دلجوئی ہماری
تھی کار محبت کو توجہ کی ضرورت
اور رزق کی جانب رہی یکسوئی ہماری
ہر شخص نے آزار سے آزاد ہی سمجھا
چہرے پہ ہنسی دیکھ کے مصنوعی ہماری
اک شہر تِرا حسن پرستی میں ہے مشہور
اک ہم کہ لیے پھرتے ہیں کم روئی ہماری
چپ چاپ کہانی سے نکل جانے لگے ہیں
ناکامی سمجھنا اسے مجموعی ہماری
اب کیسے کہیں وقت بدلتا ہی نہیں ہے
جب ایک جگہ اٹکی رہی سوئی ہماری
کومل جوئیہ
No comments:
Post a Comment