صفحات

Thursday, 2 November 2023

وجود دل کے دروازوں کی کنجی کون رکھتا ہے

 وجود دل کے دروازوں کی کنجی کون رکھتا ہے

فقیروں کے برابر گنج مخفی کون رکھتا ہے

وہاں پہنچا دیا ہے مجھ کو انگشتِ تفکر نے

جہاں میرے سوا یاد الٰہی کون رکھتا ہے

یہ قطرہ کون ہے یہ نقش عریاں بیج ہے کس کا

بدن میں سنگِ بنیادِ معانی کون رکھتا ہے

جلا کر خیر اشیاء کو تنورِ چشمِ ہستی میں

نظر کوئی بقاء پر اتنی گہری کون رکھتا ہے

لہو صہبا بدن مینائے خاکی بن گیا کاوش

ذرا دیکھو تو یوں فیضانِ ساقی کون رکھتا ہے


کاوش بدری

No comments:

Post a Comment