مجھ پہ جو تیرے تغافل سے گُزر جائے ہے
سچ بتا! تجھ کو بھی اس کی خبر جائے ہے
سُوئے مقتل وہی بے خوف و خطر جائے ہے
شوقِ دِید میں جو حد سے گُزر جائے ہے
تیرا دیوانہ جِدھر سے بھی گُزر جائے ہے
کیفیت اُس کی سے ہر آدمی ڈر جائے ہے
غیر آتا ہے تو آیا کرے، پر تُو تو نہ جا
لاکھ سمجھاتا ہوں اُس کو وہ مگر جائے ہے
مان جا، سُن بھی لے اے دوست محبت ہے وہ شے
جس سے دوشیزگئ حُسن نِکھر جائے ہے
کہہ مُکرنے سے مِری جان پہ بن جاتی ہے
اُس کو معلوم ہے پھر بھی وہ مُکر جائے ہے
دمِ نظارہ بھی مہلت کہاں نظارے کی
زُلف، رُخسار پہ آ آ کے بِکھر جائے ہے
وضع کا پاس کسے، جنسِ وفا کس میں تمیز
ایک لے دے کے فقط تجھ پہ نظر جائے ہے
تمیز دہلوی
تمیزالدین
No comments:
Post a Comment