صفحات

Thursday, 11 January 2024

زخم کھا کر بھی مسکرانا ہے

 زخم کھا کر بھی مُسکرانا ہے

دوست دُشمن کو آزمانا ہے

وہ کہاں اور التفات کہاں؟

دل دُکھانے کا اک بہانہ ہے

جانتا ہوں حقیقتِ ہستی

جان کر بھی فریب کھانا ہے

ڈُھونڈتی پِھر رہی ہے برقِ ستم

چند تنکوں کا آشیانہ ہے

فکرِ دُنیا میں گُھل رہے ہیں لوگ

چار دن کا یہ آب و دانہ ہے

کچھ نہیں سیر مےکدہ سے غرض

زیست کرنے کا اک بہانہ ہے

غم سے احمد نجات کیوں کر ہو

اس سے رشتہ بہت پُرانا ہے


الطاف احمد اعظمی

No comments:

Post a Comment