صفحات

Tuesday, 9 January 2024

لکھنے کو میرے دل میں تو ارمان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


لِکھنے کو میرے دل میں تو ارمانِ نعت ہے

اک پُھول کیا چُنوں کہ گُلستانِ نعت ہے

ہر لمحۂ حیات کی بس جان نعت ہے

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے "

جب تک نہ دل میں چاہت سرکار دینؐ ہو

کیسے لکھے کوئی کہ یہ شایانِ نعت ہے

جب سے خیال ڈھل گئے اشعار میں مِرے

ہر سانس میں بسا ہُوا عنوانِ نعت ہے

میرے خیال و فکر میں پیوست ہو گئی

ہر ایک لمحہ اور ہر اک آن نعت ہے

قرآن میں بھی ذکر کا مرکز نبیؐ ہی ہیں

گویا ظہور ہستی میں اعلان نعت ہے

مِدحت کی روشنی سے جو لفظوں کو بھر دیا

جو کچھ ملا نگار یہ فیضانِ نعت ہے


نگار سلطانہ

No comments:

Post a Comment