عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
چمکا نگینِ درد ،بدن پاک ہو گیا
اشکِ عزاء ستارۂ افلاک ہو گیا
سُن کر وہ استغاثۂ دلبندِ مصطفیٰؐ
قبرِ رسولؐ کانپی، کفن چاک ہو گیا
اک دشتِ کربلا کو معلّیٰ کی ہے سند
باطل کا نام جیسے خس و خاک ہو گیا
بازو کٹے پہ شیر کی ہمت جُٹی رہی
مشکیزہ چِھد گیا تو جگر چاک ہو گیا
رونق فزوں ہے دشت میں خیموں کی کہکشاں
مٹّی کو آب و تاب سے ادراک ہو گیا
بالیدگیِ فکر کی تجسیم ہو گئی
کربل کُھلی ہے جس پہ وہ بیباک ہو گیا
فرح رضوی
No comments:
Post a Comment