صفحات

Wednesday, 3 January 2024

فاراں کی چوٹیوں پہ جو چمکا عرب کا چاند

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 فاراں کی چوٹیوں پہ جو چمکا عرب کا چاند

ہر سمت کر گیا ہے اُجالا عرب کا چاند

وہ سر زمین بوسہ گہِ قُدسیاں ہوئی

جس سرزمیں کی خاک پہ اُترا عرب کا چاند

اُس پر بصارتوں کا صحیفہ تمام ہے

جس خوش نصیب آنکھ نے دیکھا عرب کا چاند

رخشندگی میں کون عدیم المثال ہے؟

لوحِ تخیّلات پہ اُبھرا عرب کا چاند

مہر و مہ و نجوم کی دُنیا ہو مضطرب

کر دے جو اِک ذرا سا اشارا عرب کا چاند

سِدرہ سے اُس طرف کے مناظر بدل گئے

معراج رات عرش پہ پہنچا عرب کا چاند

خوفِ غرُوب جس کو نہ رنجِ کُسوف ہے

نقشِ ابد نشاں ہے وہ پُورا عرب کا چاند


ارشد محمود ناشاد

No comments:

Post a Comment