غیر کے در پہ تِری آج پذیرائی ہے
’’اب تِرا دُور سے دیدار بھی رُسوائی ہے ‘‘
آج بھی تیرے خیالوں سے بہل جاؤں گا
دل کو بہلانے تِری یاد چلی آئی ہے
رات کی رانی بھلا کیوں نہ ہو پانی پانی
ساتھ میرے جو مہکتی ہوئی تنہائی ہے
عشق ہر حال میں رکھتا ہے برابر آباد
اگر اس اور کنواں ہے تو ادھر کھائی ہے
بال کی کھال اُتارا نہ کریں اے صاحب
ورنہ دریاؤں میں گہرائی ہی گہرائی ہے
میں شرافت کا چلن چھوڑ دوں منظور نہیں
تیری مانند ہی میں نے بھی قسم کھائی ہے
ایک ہی جھٹکے میں سب ٹُوٹ گئے بندِ قبا
سر پھری تیز ہوا سی تیری انگڑائی ہے
دلِ حسّاس کبھی مر نہیں سکتا اے عکس
میرا دل آج بھی دیوانہ ہے، سودائی ہے
عکس لکھنوی
No comments:
Post a Comment