صفحات

Monday, 9 September 2024

تڑپتا ہوں تمہاری یاد میں آنسو بہاتا ہوں

تڑپتا ہوں، تمہاری یاد میں آنسو بہاتا ہوں

سراپا درد ہوں لیکن بظاہر مُسکراتا ہوں

تمہارے عشق میں جب راہ چلتے ڈگمگاتا ہوں

زمانہ یہ سمجھتا ہے کہ پی کر لڑکھڑاتا ہوں

مجھے بھی آ گہی تھوڑی سی قُدرت نے عطا کی ہے

اُبھرنا ہے جہاں میں کیسے، یہ نسخہ بتاتا ہوں

اگر ٹکرا دیں دنیا سے، نہیں ہے خیر دنیا کی

میں اطراف زمیں ایسے بھی کچھ اجسام پاتا ہوں

عمل چھوٹا سا ہے لیکن عبادت یہ بھی ہے یارو

کوئی بچہ اگر روتا ہے، میں اس کو ہنساتا ہوں

کبھی ٹھہرا ہوا پانی کبھی اک موج برہم میں

کبھی خاموش رہتا ہوں کبھی طُوفاں اُٹھاتا ہوں

مجھے شاعر سمجھ کر تم نظر انداز مت کرنا

میں اپنی شاعری سے سونے والوں کو جگاتا ہوں


شبنم بھٹکلی

حنیف شاہ

No comments:

Post a Comment