یہ کیسا ظلم ہوا کیسا احتساب ہوا
کہ مجھ سے کفر کے جیسا ہی کچھ حساب ہوا
یہ کیسا عشق ہے اور کیسی رسمِ اُلفت ہے
کہ اب تو بات بھی کرنے سے اجتناب ہوا
کہ تجھ سے عشق ہوا اب مرا نہیں سنتا
ستم شتاب ہوا جو یہ دل خراب ہوا
جگر میں تاب نہیں پیری آگئی شاید
بلائیں پڑنے سے کم موسمِ شباب ہوا
بتادو دیکھنے والوں نظر سلامت ہے
سنا ہے آج وہ محفل میں بے نقاب ہوا
رواں دواں تھا زمانہ سبھی سوئے منزل
سلیمؔ سہو کے بستر میں محوِ خواب ہوا
سلیم عباس قادر
No comments:
Post a Comment