تمام شہر ہی تکتا ہے دشمنوں کی طرح
کبھی تو ہم سے کوئی ملتا دوستوں کی طرح
بچھڑ کے شاخ سے سوکھے ہوئے حسیں پتے
بھٹک رہے ہیں ہواؤں میں پاگلوں کی طرح
کبھی پہاڑ سے، وادی سے، ریت، پتھر سے
ہر ایک راہ سے گزرا ہوں پانیوں کی طرح
ادا سکھائی تھی ہم نے ہی بولنے کی انہیں
کبھی جو لوگ تھے خاموش پتھروں کی طرح
کبھی وہ وقت تھا پرویز سب شناسا تھے
رہے اب اپنے ہی گھر میں مسافروں کی طرح
کرشن پرویز
ہری کرشن تھاپر
No comments:
Post a Comment