صفحات

Thursday, 1 January 2026

تمام شہر ہی تکتا ہے دشمنوں کی طرح

 تمام شہر ہی تکتا ہے دشمنوں کی طرح

کبھی تو ہم سے کوئی ملتا دوستوں کی طرح

بچھڑ کے شاخ سے سوکھے ہوئے حسیں پتے

بھٹک رہے ہیں ہواؤں میں پاگلوں کی طرح

کبھی پہاڑ سے، وادی سے، ریت، پتھر سے

ہر ایک راہ سے گزرا ہوں پانیوں کی طرح

ادا سکھائی تھی ہم نے ہی بولنے کی انہیں

کبھی جو لوگ تھے خاموش پتھروں کی طرح

کبھی وہ وقت تھا پرویز سب شناسا تھے

رہے اب اپنے ہی گھر میں مسافروں کی طرح


کرشن پرویز

ہری کرشن تھاپر

No comments:

Post a Comment