صفحات

Thursday, 29 January 2026

گنہگار شاعر کی بے گناہ نظمیں

 گنہگار شاعر کی بے گناہ نظمیں


کل میری دو نظمیں بازار گئیں

جو جڑواں بہنیں تھیں

مگر واپس نہیں لوٹیں

ان دنوں کرفیو کے باعث

کھلے عام گھومنا ممنوع تھا

لیکن میں نے دن کی رفتار سے تیز بھاگتے ہوئے

شہر کا چکر کاٹا

رات کے سائے کے ڈر سے

مسجدوں میں اعلان کروائے گئے

مگر دہشت کے بستر میں دبکے لوگ

کچھ نہیں جانتے

کس کی پھٹی ایڑیوں سے رستا خون

لکیریں کھینچ رہا ہے

آخر افسردگی سے دیوار میں لگا ٹی وی آن کیا

سپر مارکیٹ دھماکے سے اڑا دی گئی

میں بھاگتا جائے وقوع پہنچا مگر

پانی سے موت کے نشان

گٹر میں بہائے جا چکے تھے

اب بے یقینی کے سگریٹ پھونکتا

قبروں کے پاس بیٹھا ہوں

جہاں بم دھماکے میں مری روحیں دفن ہیں

مگر میری نظموں کی قبر کون سی ہے

کہ مٹی کے چہرے سے پہچان ممکن نہیں

اور میں

مرنے سے پہلے کتبہ لگانا چاہتا ہوں

یہاں گنہگار شاعر کی بے گناہ نظمیں دفن ہیں


حفیظ تبسم 

No comments:

Post a Comment