جاگتے جاگتے عمر بسر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
پل میں شب فرقت کی سحر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
جن لوگوں نے جان کے میرا گھر کچھ پتھر پھینکیں ہیں
وہ ان کا اپنا ہی گھر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
آج تو بس پتھر ہی پتھر اپنے سرہانے ہیں لیکن
کل ان کی آغوش میں سر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
راز وہ دل کا جس کو ہم نے اب تک راز ہی رکھا ہے
لیکن اس کی سب کو خبر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
دنیا جس کو فیض سمجھ بیٹھے ہیں ہم اک شیش محل
وہ بھی کوئی ریت کا گھر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
ابراہیم فیض
No comments:
Post a Comment