دل میں اک اضطراب رہنے دو
زخم میرے گلاب رہنے دو
پیاس کا ایک دشت ہے مجھ میں
چشم کو زیر آب رہنے دو
اپنے احسان ہی جتاتے رہو
میرے غم کا حساب رہنے دو
میرے کچے گھڑے کی قسمت میں
ایک بپھرا چناب رہنے دو
شہر سے چھن گئی ہے بینائی
صورتیں بے نقاب رہنے دو
راہ فرقت کا آسرا شاہین
اک ادھورا سا خواب رہنے دو
شاہین زیدی
No comments:
Post a Comment