صفحات

Wednesday, 18 February 2026

دل میں اک اضطراب رہنے دو

 دل میں اک اضطراب رہنے دو

زخم میرے گلاب رہنے دو

پیاس کا ایک دشت ہے مجھ میں

چشم کو زیر آب رہنے دو

اپنے احسان ہی جتاتے رہو

میرے غم کا حساب رہنے دو

میرے کچے گھڑے کی قسمت میں

ایک بپھرا چناب رہنے دو

شہر سے چھن گئی ہے بینائی

صورتیں بے نقاب رہنے دو

راہ فرقت کا آسرا شاہین

اک ادھورا سا خواب رہنے دو


شاہین زیدی

No comments:

Post a Comment