کون پڑتا ہے یہاں اب عشق کی افتاد میں
دم بھلا باقی کہاں ہے تیشۂ فرہاد میں
منہدم جو ہو گئی ہے آندھیوں کے زور سے
نقص کوئی تھا کہیں تعمیر کی بنیاد میں
نوچ کر سب طائرانِ گلستان کے بال و پر
آج گُل چیں آ گیا ہے پنجۂ صیاد میں
خود مسلسل سہ رہا ہے سایۂ خنجر تلے
ظلم جو ڈھائے تھے اپنے دورِ استبداد میں
آشنائے دردِ دل تو کر دیا ہے وقت نے
کچھ اضافہ ہو مگر اس درد کی معیاد میں
عرش کی زنجیر ہلنے کو ہے کب سے بیقرار
ہو اگر تاثیر بھی پیدا تِری فریاد میں
تُو رسومِ دہر کا باغی تو بن الطاف اور
مرتبہ پہچان اپنا عالمِ ایجاد میں
الطاف زرگر
No comments:
Post a Comment