صفحات

Tuesday, 24 February 2026

کون پڑتا ہے یہاں اب عشق کی افتاد میں

 کون پڑتا  ہے یہاں اب عشق کی افتاد میں 

دم بھلا باقی کہاں ہے تیشۂ فرہاد میں

منہدم جو ہو گئی ہے آندھیوں کے زور سے

نقص کوئی تھا کہیں تعمیر کی بنیاد میں 

نوچ کر سب طائرانِ گلستان کے بال و پر

آج گُل چیں آ گیا ہے پنجۂ صیاد میں

خود مسلسل سہ رہا ہے سایۂ خنجر تلے

ظلم جو ڈھائے تھے اپنے دورِ استبداد میں

آشنائے دردِ دل تو کر دیا ہے وقت نے 

کچھ اضافہ ہو مگر اس درد کی معیاد میں 

عرش کی زنجیر ہلنے کو ہے کب سے بیقرار 

ہو اگر تاثیر بھی پیدا تِری فریاد میں 

تُو رسومِ دہر کا باغی تو بن الطاف اور 

مرتبہ پہچان اپنا عالمِ ایجاد میں 


الطاف زرگر

No comments:

Post a Comment