صفحات

Thursday, 26 February 2026

بات بنائیں بگڑ گئی دودھ میں دراڑ پڑ گئی

 دودھ میں دراڑ پڑ گئی


خون کیوں سفید ہو گیا

بھید میں ابھید کھو گیا

بٹ گئے شہید، گیت کٹ گئے

کلیجے میں کٹار گڑ گئی

دودھ میں دراڑ پڑ گئی

کھیتوں میں بارودی گندھ

ٹوٹ گئے نانک کے چھند

ستلج سہم اٹھی، ویتھت سے وتستا ہے

وسنت میں بہار جھڑ گئی

دودھ میں دراڑ پڑ گئی

اپنی ہی چھایا سے بیر

گلے لگنے لگے ہیں غیر

خودکشی کا راستہ، تمہیں وطن کا واسطہ

بات بنائیں بگڑ گئی

دودھ میں دراڑ پڑ گئی


اٹل بہاری واجپائی

جنگ نہ ہونے دیں گے

No comments:

Post a Comment