صفحات

Wednesday, 11 March 2026

قربتوں میں کہیں فاصلہ رہ گیا

 میرے خوابوں کو مجھ سے گلہ رہ گیا

میں حقیقت میں ہی مبتلا رہ گیا

میں بھی قصے سناتا سفر کے مگر

یاد مجھ کو بس اک مرحلہ رہ گیا

رہ گئے کتنے کردار بھیتر مِرے

میرے بھیتر مِرا قافلہ رہ گیا

فاصلوں میں رہا قربتوں کا گماں

قربتوں میں کہیں فاصلہ رہ گیا

خیریت پوچھنا اور بتانا کبھی

نسبتوں میں یہی سلسلہ رہ گیا

کوئی کندن ہُوا تو کوئی کوئلہ

ایک میں ہی تھا جو ادھ جلا رہ گیا

تول کے بیچے تھی میں نے ٹکڑے سبھی

جانے کیسے یہ دل ان تُلا رہ گیا

زندگی جی تو لی شرطوں پہ اپنی مگر

کیا کروں اس کا یہ جو صلہ رہ گیا


نوین جوشی

No comments:

Post a Comment