صفحات

Friday, 20 March 2026

صراحی ہے سر محفل نہ دور جام ہے ساقی

 صراحی ہے سر محفل نہ دور جام ہے ساقی

تِری ذات گرامی موردِ الزام ہے ساقی

بگڑتی جا رہی ہے رات دن ترتیب مے خانہ

تِرے کارِ جہاں بینی کا یہ انجام ہے ساقی

مِرے حصے میں آئی ہے فقط دُردِ تہِ مینا

میسر کیوں عدو کو شیرۂ بادام ہے ساقی

نگلتے جا رہے ہیں آشتی کو خوف کے سائے

تِرا دستِ تصرف موت کا پیغام ہے ساقی

گلی کوچوں میں میری حسرتوں کا خون بہتا ہے

یہ کس شیریں ادا کا جلوۂ بے نام ہے ساقی

تِری تو عمر گزری ہے یہاں جادو جگانے میں

یہ کیا کرتوت ہیں جس کا یہ چرچا عام ہے ساقی

جہاں سکے چھنکتے ہیں جہاں پگڑی اچھلتی ہے

وہی تو شہر میں اک کوچۂ بدنام ہے ساقی

نوید جانفزا مرغوب کیا مجھ کو ملے کوئی

تِری حکمت اسیر گردش ایام ہے ساقی


میاں مرغوب

No comments:

Post a Comment