کیا خبر تھی راہزن ہی راہبر ہو جائے گا
چارہ گر حصے کا میرے کم نظر ہو جائے گا
قافلہ غم کا شریک رہگزر ہو جائے گا
درد دل کا دھیرے دھیرے بے اثر ہو جائے گا
گفتگو سے آشنائی ہی نہیں دیکھو جسے
محفلوں میں وہ سخنور پر اثر ہو جائے گا
خوب سے تھے خوب تر کی راہ میں کوشاں مگر
ہمسفر کا ساتھ یوں تو مختصر ہو جائے گا
ہو بہو ویسی رہے جان جہاں ہر ایک شے
تم چلے جاؤ گے احسن منتشر ہو جائے گا
کاشف احسن
No comments:
Post a Comment