صفحات

Friday, 6 March 2026

کیا خبر تھی راہزن ہی راہبر ہو جائے گا

 کیا خبر تھی راہزن ہی راہبر ہو جائے گا

چارہ گر حصے کا میرے کم نظر ہو جائے گا

قافلہ غم کا شریک رہگزر ہو جائے گا

درد دل کا دھیرے دھیرے بے اثر ہو جائے گا

گفتگو سے آشنائی ہی نہیں دیکھو جسے

محفلوں میں وہ سخنور پر اثر ہو جائے گا

خوب سے تھے خوب تر کی راہ میں کوشاں مگر

ہمسفر کا ساتھ یوں تو مختصر ہو جائے گا

ہو بہو ویسی رہے جان جہاں ہر ایک شے

تم چلے جاؤ گے احسن منتشر ہو جائے گا


کاشف احسن

No comments:

Post a Comment