صفحات

Sunday, 1 March 2026

جو تھا ہر آن مبتلا میرا

 جو تھا ہر آن مبتلا میرا

وہ بھی سمجھا نہ ماجرا میرا

ہے محبت میں کچھ ہوس پنہاں

تو نہ کریو کبھی کہا میرا

تیرے نزدیک رہ کے بھی تجھ سے

کم ہی کم واسطہ رہا میرا

سب سے اول ہے بات گڑھنے میں

ہائے ظالم معاشرہ میرا

اتنا ویران تھا میں اندر سے

مجھ میں من ہی نہیں لگا میرا

کاش تو دھوپ کی سڑک ہوتی

عکس پھر تجھ پہ دوڑتا میرا

مختلف ہے خدا زمانے کے

جانے ہو کون سا خدا میرا

کون آفیؔ بنے مجھے پھر سے

ہاتھ آتا نہیں سرا میرا


آفتاب شکیل آفی

No comments:

Post a Comment