تم مجھے مار کر کیا کرو گے؟
دشت میں میری لاش پھینک کر
تم مجھ سے ہاتھ نہیں دھو سکتے
میرا لہُو تمہارے ہاتھ پر
مقدر کی لکیر میں اُتر کر جم چکا ہے
جسے تم جنم جنم بھی کھُرچو گے
تو نشان باقی رہے گا
تم نے مجھے جن ہاتھوں سے مارا
کیا تم انہی ہاتھوں سے
میرے اُن پیاروں کے گالوں پر تھپڑ مار کر
انہیں رُلا سکتے ہو
جن پرمیری موت سے سکتہ طاری ہے
مجھے معلوم ہے کہ تم اگر چاہو بھی تو
میری لاش کو سرد خانے نہیں لے جا سکتے
کہ تمہارے سرد خانے کب کے گرم پڑے ہیں
اُن میں پہلے سے رکھی لاشیں
لوڈ شیڈنگ کے باعث
سڑ جل رہی ہیں
تم تو لاشوں کے بیچ
رہنے کے عادی ہو
تمہاری سڑکوں، بازاروں
تمہاری سکرینوں
اور تمہارے اخباروں میں
چلتی پھرتی اور لکھتی بولتی لاشیں
زندہ ہونے کا ناٹک رچائے
صبح، دوپہر، شام
تمہارے پھُولے ہوئے پیٹ سہلاتی ہیں
خون کی بُو ہاتھوں اور نتھنوں میں بھر کر
تم مُشکبو کو کیسے سُونگھو گے
مُشکبو اب بس مقتولوں اور
اُن کا نوحہ لکھنے والے شاعروں کے کام آتی ہے
ہمراز احسن
No comments:
Post a Comment