صفحات

Tuesday, 21 April 2026

کچھ بھی ہو مگر دل کی اطاعت نہ کریں گے

 کچھ بھی ہو مگر دل کی اطاعت نہ کریں گے

سوچا ہے کہ اب اور محبت نہ کریں گے

غیروں کی طرح اس سے سلوک اب کے کریں گے

اس بار ملے گا تو مروت نہ کریں گے

سچ بول کے رسوائی ہی رسوائی ملی ہے

اب سب سے بیاں اپنی حقیقت نہ کریں گے

انجام سے ہم چپ ہیں، مگر ایک چبھن ہے

کیا لوگ کبھی تجھ کو ملامت نہ کریں گے

یہ عہد ہے دشوار مگر پھر بھی ریحانہ

مر جائیں گے سانسوں کی تجارت نہ کریں گے


ریحانہ نواب

No comments:

Post a Comment